May 21, 2022

میری شادی ہوگئی ہے لیکن میری تعلیم ابھی جاری ہے توکیا میں حمل روکنے کے لیے کو ن ڈ م کا استعمال کرسکتی ہوں ؟


اردو نیوز

ایک بھائی کا سوال ہے کی میری شادی ہوگئی ہے میری بیوی کے پیپرز ہونے کو ہے کیا پڑھائی کی وجہ کرکے حمل کو روکنا جائز ہے یا ناجائز ہے؟ میرے بھائی شادی ہوگئی ہے بیوی کی پڑھائی کی وجہ سے حمل کوروکنا جائز تو ہے ۔ مگر گن اہ نہیں ہے اس میں ۔ لیکن پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ کیونکہ آپ ایک فائدے کو دیکھ رہیں ہیں۔ ابھی تعلیم کو۔ جبکہ شریعت دور تک دیکھتی ہے۔ اجتماعی مفاد دیکھتی ہے۔ اور آپ کی بیوی کو تعلیم کی بھی ضرورت ہے۔لیکن اتنی نہیں جتنی اس کو اولا د کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر اولاد دیر سے پیدا ہوگی تو اس میں دو نقصان ہیں۔ ایک تو یہ بعض دفعہ اولا د پیدا ہوتی نہیں ہے یہ اپنے اختیار میں نہیں ہے ۔ کہ آپ جب چاہیں اولاد پیدا کریں۔سب سے بڑی بھول ہے آپ کی ۔ ایسے بہت سے جوڑوں کو جانتے ہیں۔جنہوں نے شادی کی ابتدا ء میں حمل کوروکا اور بعد میں ان کی بہت خواہش ہوئی کہ اولاد ہو مگر نہیں ہوئی تو یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ اور ہم یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں جب چاہیں گے اولا د ہوجائے گی۔ دوسرا یہ کہ اولا داگر دیر سے ہوگی ۔ تو پھر عورت کے لیے ان کو پالنا مشکل ہوگا ۔آپ کے لیے بہتر ہے۔ آپ کی اولا د آپ کی جوانی میں ہی جوا ن ہوجائے ۔

تیسری بات یہ ہے کہ حمل تعلیم کی رکاوٹ میں سبب نہیں ہے۔ حمل کوئی بیماری نہیں ہے۔ حمل کے ساتھ سب کچھ کیاجاسکتا ہے۔ تعلیم بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہاں وقتی طور پر چند دنوں کے لیے طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔ تو وہ تو ویسے نارمل آدمی کو ہوجاتی ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ میڈیکل سائنس کہتی ہے۔ کہ عورت حمل کے دنوں میں بہت سی دیگر بیماریوں سے محفوظ رہتی ہے۔ حمل میں کچھ پریشانیاں ہوتی ہیں۔ لیکن اگرعورتیں یہ سمجھتی ہیں۔کہ حمل نہیں ہوگی۔ تو پورے نو مہینے تک ہماری صحت اچھی رہے گی تو ایسا نہیں ہے۔ پھر دوسر ی چیزیں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔

ایک بات تو یہ ہے کہ حمل میں اگر کچھ بیماریاں ہوتی ہیں۔ تو بہت ساری بیماریوں سے اللہ پاک عورت کو بچابھی لیتا ہے اس دوران۔ تو یہ تصور بھی غلط ہے کہ حاملہ عورت کچھ نہیں کرسکتی۔ وہ سب کچھ کرسکتی ہے۔ پڑھ سکتی ہے۔تعلیم جاری رکھ سکتی ہے۔ اور ایک بات یہ کہ حمل کوروکنے کےلیے جو گولیاں عورتیں کھاتی ہیں۔ وہ تو بہت ہی خطرنا ک ہیں ۔ دیکھاجائے اگر خواتین میں جو کینسر کی مریضہ ہوتی ہیں ان میں زیادہ تر خواتین وہ ہوتی ہیں ۔ جو حمل روکنے کی گولیاں کھاتی ہیں۔ حمل روکنے کی جو گولیاں خواتین کھارہی ہیں۔ ان میں بریسٹ کینسر کا تناسب زیادہ ہے۔

تو جائز ہونے کی حد تک تو ٹھیک ہے۔ تعلیم کی وجہ سے آپ کو اولاد کو مؤ خر کردیں۔ مگر ان سب چیزوں کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔لیکن پھر بھی کہتے ہیں کہ نکاح نہ کرنا تعلیم کی خاطر ، اس سے یہ بہتر ہے کہ آپ نکاح کرکے حمل روک لیں۔ کیونکہ بعض لوگ ایسا بھی کرتے ہیں۔کہ ابھی ہم تعلیم مکمل کرلیں۔ اس سے پھر بھی بہتر ہے کہ آپ شادی کرلیں۔ بے شک آپ اولاد کو مؤخر کردیں۔ ہاں بظاہر حمل جائز نہیں ۔

یہاں کلک کر کے شیئر کریں